
ایکنا نیوز- الجزیرہ نیوز چینل کے مطابق کویت شہر، جو خلیج فارس کے شمال مغربی ساحل پر واقع ہے، کئی نمایاں تاریخی عمارتوں کا میزبان ہے۔ یہ عمارتیں ہر ذوق کے حامل سیاحوں اور زائرین کو اپنی جانب کھینچتی ہیں، جن میں کویت کی عظیم مسجد (مسجدِ کبیر) بھی شامل ہے۔
یہ مسجد دنیا کی بڑی ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے، جسے معمار محمد صالح مکیہ نے اندلسی اور مشرقی طرزِ تعمیر کے امتزاج سے ڈیزائن کیا۔ اس کی تعمیر اسلامی روایتی فنِ تعمیر کے ورثے کے مطابق کی گئی ہے، جس میں عربی طرزِ تعمیر کی جھلکیاں اس کی دیواروں پر نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
اس مسجد کی تعمیر 1979 میں شروع ہوئی، جس میں 50 انجینئروں اور 400 سے زائد مزدوروں نے حصہ لیا، اور اس پر تقریباً 45 ملین ڈالر کی لاگت آئی۔
یہ مسجد 1987 میں افتتاح کے بعد سے ایک عظیم عبادت گاہ بن چکی ہے، جو بڑی تعداد میں مرد و خواتین نمازیوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے، خصوصاً اس لیے کہ اس کا مجموعی رقبہ 60 ہزار سے زیادہ نمازیوں کی گنجائش رکھتا ہے۔
اندلسی اور مشرقی طرزِ تعمیر کا امتزاج
مسجدِ کبیر کویت کے مدیر علی شداد کے مطابق، مسجد کا رقبہ تقریباً 45 ہزار مربع میٹر ہے۔ مرکزی نماز ہال میں 10 ہزار نمازی سما سکتے ہیں، جبکہ صحنوں اور دیگر برآمدوں سمیت اس کی مجموعی گنجائش تقریباً 60 ہزار افراد تک پہنچ جاتی ہے۔ البتہ رمضان المبارک میں، خصوصاً شبِ قدر کے دوران، یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 150 ہزار نمازیوں تک جا پہنچتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مسجد کی دیواروں پر نقش و نگار اور کندہ کاری ہاتھ سے تیار کی گئی ہے، جس کے لیے بہت محنت کی گئی ہے۔
شداد کے مطابق، یہ مسجد کویت شہر کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے اور اس کا تعمیر شدہ حصہ 24 ہزار مربع میٹر پر مشتمل ہے، جبکہ باقی جگہ فوارے بنانے، کھجور کے درخت لگانے اور دیگر پودے لگانے کے لیے مختص کی گئی ہے جو اس کے راہداریوں اور گزرگاہوں کی زیبائش کا سبب بنتے ہیں۔
تعلیم و تحقیق کا مرکز
مسجد جامع کویت نہ صرف فنِ تعمیر کا ایک عظیم شاہکار اور عبادت کا نمایاں مرکز ہے، بلکہ یہ ایک معروف علمی مدرسہ بھی ہے، کیونکہ اس میں ایک بڑی لائبریری موجود ہے جس میں اسلامی موضوعات پر سینکڑوں مراجع محفوظ ہیں اور یہ محققین کو ان کے علمی کام میں مدد فراہم کرتی ہے۔
اس کے علاوہ مسجد میں سیمینارز، لیکچرز اور ثقافتی و تعلیمی پروگراموں کے انعقاد کے لیے ایک ہال بھی موجود ہے۔

یہ مسجد درحقیقت دو بڑی لائبریریوں پر مشتمل ہے، پہلی لائبریری ماہرین اور محققین کے لیے مخصوص ہے، اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ عثمانی قرآن (مصحفِ عثمانی) بھی اسی حصے میں موجود ہے۔
دوسری لائبریری ایک عالمی لائبریری ہے، جس میں غیر عربی زبانوں میں کتابیں شامل ہیں، اور یہ غیر مسلموں اور غیر عرب زبان بولنے والوں کے لیے مخصوص ہے۔/
ویڈیو:
4323172